مضامین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مضامین لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 1 جولائی، 2018

حج عشقِ الہی کا مظہر


حج عشق الہی کا حسین مظہر ہے ۔

 محبت الہی کے اظہار کا خوبصورت استعارہ ہے ۔ انسانی خمیر میں داخل جذبہ عشق کی تسکین اور محبوب حقیقی کے سامنے شوق وتعظیم کے بیان کا سبب ہے ۔ ایمانی تا زگی و توانائی اور تطہیر قلوب واذہان کا موثر ذریعہ ہے ۔ جس میں روح بے تاب ا ور دل بے قرار کو سکون نصیب ہوتا ہے ۔ بقول حضرت شاہ ولی ا للہ محدث دہلوی:
’’ کبھی کبھی انسا ن کو اپنے رب کے طرف غایت درجہ اشتیاق ہو تا ہے ،اور محبت جوش ما رتی ہے ،اور وہ اس شوق کی تسکین کے لئے اپنے چاروں طرف نظر دوڑا تا ہے ،تو اس کو معلوم ہو تا ہے کہ اس کا سامان حج ہے ‘‘(ارکان اربعہ ص۲۹۴)
حج میں انسان کو اپنی حقار ت کا احسا س اور رب ا لعلمین کی عزت وجلال کا اعتراف ہوتاہے،یہاں جن اعمال اور نقل وحرکت کا پا بند بنایاگیا ہے ،وہ عقل انسانی سے ماوراء ہے مگر یہی اعمال کمالِ بندگی کا اشاریہ ہے ۔حج حضرت ابراہیم ؑ سے تجدیدِ تعلق کا ذریعہ بھی ہے اور حضرت ابراہیم وہاجرہ اور اسمعیل علیہم السلام کے حسین وبے مثال قصے کی تمثیل بھی،حج ملت اسلامیہ کی ایسی اجتماع گاہ ہے جہاں سے ان کی رگوں کو خونِ تازہ نصیب ہوتاہے ،حج نسلی،وطنی ،لسانی اور علاقائی حدِفاصل کوختم کر کے ایک ہی لباس ،ایک ہی صدا ،ایک ہی ادا اور ایک ہی مقصد کے ساتھ اسلا می وانسانی اخوت اور عا لمی برادری کا حسین سبق دیتا ہے ۔



ایک بار پھر حج کا موسم اپنے فضائل وبر کات کے ساتھ سا یہ فگن ہے ،طالع بختوں اور اقبال مندوں کا روحا نی کا رواں سوئے بیت اللہ رواں ہے ،۔۔۔ان کی روا نگی کا روح پر ور منظر دیکھئے!۔۔۔عشق ومحبت کے یہ قافلے خود سے بے گا نہ ہو چکے ہیں ،ان کی جذباتیت ،فنا ئیت اور وجدا نی کیفیت کا یہ نورانی لمحہ کس قدر رقت انگیز ہے ،نوائے عاشقاں’’لبیک اللہم لبیک،لا شریک لک لبیک،ان الحمد والنعمۃلک والملک لا شریک لک،کی حسین تکبیر کے ساتھ یہ کارواں پاک وہند ،افریقہ وملیشیا ،ایران ومصر ،ترکی و افغا نستان ،شمال و جنوب ،مشرق ومغرب سے کشاں کشاں ،افتاں وخیزاں،آشفتہ ودیوانہ بیت عتیق کی طرف چلے جا رہے ہیں ،۔۔۔ رنگ ونسل کا امتیاز اٹھ چکا ہے ،عربی وعجمی کے فاصلے مٹ چکے ہیں ایک جذبہ،ایک عقیدہ ،ایک دعوت اور ایک ہی مقصدکے حسین نظاروں کے ساتھ ایک ہی منزل کے یہ لاکھوں راہی عین تفسیر ہیں اس آیت کی:
واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالاوعلی کل ضامریاتین من کل فج عمیق
(ترجمہ)’’اور لوگوں میں حج کااعلان کردو!لوگ تمہارے پاس پیدل بھی آئیں گے اور دبلی اونٹنیوں پر بھی ،جو دور دراز راستوں سے پہنچی ہو نگی(پ ۱۷ س حج)۔
جب کعبہ تعمیر ہوگیا ،تو ابراہیم ؑ نے پکا راکہ لوگو!!تم پر اللہ نے حج فرض کیاہے ،حج کوآؤ!!!حق تعا لی نے یہ آوازہر ایک ذی روح کو پہنچادی ،جس کے لئے حج مقدر تھااس کی روح نے لبیک کہا ۔۔۔وہی شوق کی دبی ہوئی یہ چنگاری آج شعلہ بن کر عشق کی جولان گاہ میں پہنچ رہی ہے،یہ دعائے ابراہیم ؑ ’’سو رکھ بعضے لوگوں کے دل کہ مائل ہوں ان کی طرف (پ ۱۳ س ابراہیم)کابھی اثرہے۔
سفر تو سفر ہے ،چاہے پیدل ہو یا ہوائی جہاز کا۔ ،صعوبت بہر حال مسافر کامقدر ہے،لیکن راہِ عشق کے ان مسا فروں کو ان صعوبتوں میں کچھ اس طر ح لطف ملتا ہے ؂
ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیاتھامیں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
(غالب)
اسی خوشی میں جدہ سے روانہ ہوچکے ہیں،پہا ڑوں،پتھروں،اور سنگریزوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے،راستے میں دھوپ کی شدت ،آفتاب کی تمازت،کنکریلی اور پتھریلی زمین تا حد نگاہ پھیلی ہوئی ہے ،مگر بزبان شا عر یہ پیغام ملتاہے کہ ؂
انھیں پتھروں پہ چل کے آسکو تو چلے آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی گلستاں نہیں
دیوانگی ،فریفتگی اور بے تابی کے عالم میں انہیں پتھروں پہ چل کے پہنچ چکے ہیں،۔۔۔لیجئے!!وہ منزل سامنے ہے ،دیکھنا چاہتے ہیں،مگر ’’آنکھوں کوبند کئے ہوئے ہیں دیدار کے لئے ‘‘اور کیفیت یوں ہے کہ ؂
وہ سامنے ہیں نظامِ حواس برہم ہے
نہ آرزو میں سکت ہے نہ عشق میں دم ہے
پلکیں کبھی کھل رہی ہیں،کبھی بند ہورہی ہیں ،اب بڑھنا چا ہتے ہیں ،قدم لرزرہا ہے ،اور قوتِ اعضا جو اب دے چکی ہے ،ہاں ! مگر قوتِ عشق ہے جو قدم کو آگے بڑھا رہی ہے ،عبودیت ،سپر دگی اور جذبہ اطاعت و انقیاد کی مکمل تصویر بنے ہو ئے ہیں،زرق برق لباس ،شا ہا نہ آن بان ،طلا ئے عظمت اتار پھینکا ہے ،قبا ئے زریں ،لباس حریر ودیباج اور شیروانی لپیٹ کر رکھدےئے ہیں،خوشبو ،چمک دمک اور شہوت جذبات کی باتیں ختم کر چکے ہیں،حکم کے بندے اور اشاروں کے غلا م بن چکے ہیں،اب وہ وقت آچکاہے ،جس کے لیے بلا ئے گئے ہیں،ان کی حا لت یہ ہو چکی ہے
’’سر تسلیم خم ہے جو مزاج یارمیں آئے‘‘
وہ دیکھئے !!کبھی مکہ میں نظر آرہے ہیں ،تو کبھی منیٰ میں،کبھی عرفات میں ہیں، تو کبھی مژدلفہ میں،کبھی ٹھہرے ہوئے ہیں ،تو کبھی سفر جا ری ہے ،کبھی خیمہ گاڑتے ہیں ، تو کبھی اکھا ڑتے ہیں ،اپنا نہ کوئی ارادہ ہے ،نہ فیصلہ ،وہ منیٰ میں اطمنا ن کی سانس بھی نہیں لے پاتے کہ عرفات جا نے کا حکم مل چکا ہوتا ہے ،لیکن مزدلفہ میں رکنے کی اجازت نہیں ہوتی،عرفات پہنچ کر وہ دن بھر مناجات و عبادات میں مشغول ہیں ،وہاں غروب آفتاب کے بعد بدن کی تھکاوٹ اطمنان چا ہتی ہے کہ فورا مزدلفہ جا نے کا حکم مل جا تا ہے،وہ زندگی بھر نمازوں کے پا بند رہے ،مگر یہاں حکم ملتاہے،مغرب چھوڑدو اور یہ نماز مزدلفہ پہنچ کر عشاء کے ساتھ پڑھو !! جیسا کہا جا رہا ہے ،ویسا ہی کر رہے ہیں،مزدلفہ میں کیف ونشاط سے جونہی ہم آغوش ہونا چاہتے ہیں،کہ حکم ملتا ہے منیٰ کی طرف کوچ کرو ،۔۔۔ا ن کی ہر اداؤں سے حضرت ابراہیم ؑ کے عمل کی تصویریں روشن ہو رہی ہیں۔کبھی بیت اللہ کاطواف کر رہے ہیں ،کبھی حجر اسود کوبوسہ دے رہے ہیں،کبھی رمی جمار میں مصروف ہیں،کبھی صفا مروہ کی سعی میں حضرت ہاجرہ کی ما متا اور جوش اضطراب سے معمور دکھا ئی دے رہے ہیں،جہاں وہ تیز دوڑی تھیں ،وہاں یہ بھی تیز دوڑ رہے ہیں،جہاں متا نت وسنجیدگی کا اظہار ہوا تھا ،وہاں یہ بھی متانت وسنجیدگی کے پیکر بنے ہوئے ہیں۔۔۔کبھی وہ عرفات کے میدان میں رو رہے ہیں،تو کبھی پہاڑی کے دامن میں گڑگڑا رہے ہیں،اور کبھی ملتزم سے چمٹ کر آہ و زاری کر رہے ہیں،ہےئت کیا ہے ،وہی جو شرعی زبان میں ایک حا جی کی ہو تی ہے ،با ل بکھرے ہوئے،ناخن بڑھے ہوئے ،بدن گرد وغبار آلود ،’’الشعث التفل‘‘کی تصویر میں ڈھل چکے ہیں۔۔۔بس وہی کیفیت جو مجنوں کی لیلی کی گلی میں تھی ،شعری پیرائے میں وہ ساری کیفیتیں سمٹ آ ئی ہیں ؂
امر علی الدیار دیار لیلی
اقبل ذالجدار و ذالجدارا
وما حب الدیار شغفن قلبی
ولکن حب من سکن الدیارا
(ترجمہ)کہ جب لیلی کے مکان سے گذرتا ہوں ،تو کبھی اس دیوارکو چومتا ہوں اور کبھی اس دیوارکو ،کبھی اس دروازے کو چومتا ہوں ،تو کبھی اس دہلیز کو،اور ہاں!!مجھے ان اینٹوں اور دروازوں سے کوئی قلبی شغف نہیں ہے ،لیکن چومنے کی وجہ یہ ہے کہ ا ن میں میرے محبوب کی خوشبو بسی ہو ئی ہے ،اور وہ انہی کے اندر بیٹھی ہوئی ہے )
ان وفا شعار ،جاں نثاراور عشاق ومحبین کے یہ پر کیف نظارے مکہ میں دیکھنے کو مل رہے ہیں ،۔۔۔مگر ابھی تو ایک اور حسین منظر جلوہ نمائی کے لئے بیتاب ہے ،،عشق کی ایک اور جولان گاہ میں ان عا شقوں کا نور محبت اور نور شوق مچلنے کو بیقرار ہے ،۔۔۔قلب تھام لیجئے !!!اپنی دھڑکن روک لیجئے !!لرزتے بدن پر قابو پا ئیے !!دیوا نوں اور عا شقو ں کا قافلہ اب سوئے مدینہ روانہ ہو چکا ہے ،مگر وہاں کی حاضری سے پہلے اپنا جا ئزہ لیتے ہیں تو دل تڑپ اٹھتا ہے ،اشک غم کا دریا رواں ہو جا تا ہے ،اپنی عصیا ں پر وری کے احساس سے ندامت کے پسینے ان کی پیشا نی سے ٹپکنے لگتے ہیں ؂
ترا جب سامنا ہوگا تڑپ اٹھے گا دل مرا
میری آنکھوں سے اشک غم مسلسل بہہ رہا ہوگا
ندامت کے پسینے میری پیشانی پہ ابھریں گے
میرا دل اپنی عصیاں پروری پر جل اٹھا ہوگا
لپٹ کر تیرے دامن سے کہوں گااپنی سب حالت
نہ جانے کس طرح مجھ سے بیان مدعا ہوگا
گنبد خضراء نظر آتے ہی شعلہ اشتیاق کی لہک کچھ کم ہوتی ہے ، اب روضہ رسول ﷺکی سنہری جا لیوں کو پکڑ چکے ہیں ،ہجر یار میں آبلوں کے طرح رستی ہوئی آنکھیں بادلوں کے طرح روضہ پر برس پڑی ہیں ؂
جو آنکھیں ہجر میں رستی تھیں آبلوں کی طرح
برس پڑی ہیں وہ روضے پہ بادلوں کی طرح
راز ونیاز شروع ہو چکا ہے ،درود وسلام کا سلسلہ جا ری ہے کچھ اس طرح ؂
نبی اکرم شفیع اعظم دکھے دلوں کا پیام لے لو
تمام دنیا کے ہم ستائے کھڑے ہو ئے ہیں سلام لے لو
خیال کی پر واز بند ہو گئی ہے ،تصور کی اڑان ختم ہو چکی ہے ،الفاظ ،تعبیرات ،تشبیہات اور ہر خو بصورت جملے ذہن سے غائب ہو چکے ہیں،کیامانگ رہے ہیں ،کیا کہہ رہے ہیں ،نہ کچھ ہو ش ہے ،نہ خبر ہے ،درددل کی بے تابی کا یہ روحا نی اثر ہے :
والعشق نار فی القلوب
یحرق ما سوی المحبوب
کا روح پر منظر ہے ،ذوق وشوق ،عشق ومحبت اوردل سوزی وبیقراری سے مغلوب ہو چکے ہیں، ان کے زخم خوردہ دل کے شکستہ تار پر احساس جرم کی یہ دردبھری لے سنائی دینے لگتی ہے ؂
زخم کھائے ہوئے سر تا بقدم آئے ہیں
ہانپتے کانپتے یا شاہ امم آئے ہیں
سرنگوں آئے ہیں بادیدۂ نم آئے ہیں
آبرو باختہ دل سوختہ ہم آئے ہیں
کھو کے بازار میں سب اپنا بھرم آئے ہیں
شرم کہتے ہوئے آتی ہے کہ ہم آئے ہیں

آپ کے سامنے جس حال میں ہم آئے ہیں
ایسے مجرم کسی دربار میں کم آئے ہیں
اسی بے تا بی کے عالم میں ان عا شقوں کے زخمی ضمیر پر ایک ضرب لگتی ہے ،یہ ضرب جدائی کے بگل کی ہے ،جو اس با ت کا اعلان کر رہی ہے کہ جدا ئی کا الم انگیز وقت آچکا ہے،مدت میعاد مکمل ہو چکی ہے ،اب واپسی ہے ۔۔۔جدائی کے المناک وقت کی کیفیت کا بیان لفظوں میں کہاں ممکن ہے ، بس اتنا کہ آنکھیں اشکبار ہیں،قلب حزن ووالم سے ریزہ ریزہ ہے ،سینہ جدائی کی آگ سے دہک رہا ہے ،اور دل کے ارماں دل میں گھٹ کے رہ گئے ہیں !!

عاجزی انسان کا جوہر خاص

عاجزی انسان کا جوہر خاص 

آج تقابل کا دورہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کامتمنی ہے۔ مادّیت کے اس دور میں ہمارے سودوزیاں اور نفع ونقصان کا سارا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم دنیاوی عیش وعشرت اور جاہ و حشم میں کس قدر آگے ہیں۔ ہمارے پاس بینک بیلنس کتنے ہیں۔ ہمارے پاس گاڑیاں کتنی مہنگی ہیں۔ ہمارا گھر کس قدر عالیشان ہے اور سماج میں ہماری عزت اور آؤ بھگت کس پیمانے پر ہے۔ اس طرح کے مزید پہلو ہیں جن پر ہماری نظریں مر کوز رہتی ہیں۔

ان حالات میں ہمارے سامنے دوصورتیں پیدا ہو تی ہیں۔ اگر ہم کم تر ہیں تو دل حسرت و یاس کا پتلا بن جا تا ہے اور نا امیدی ہمارے گر د ہالہ بنا لیتی ہے اور اگر ہم بہتر ہیں تو فخر و مباہات اورتکبر و انانیت کا غیر محسوس مر ض ہمار ے اندر کی دنیا کو بیمار کر دیتا ہے۔ یہ دونوں صورت انسانی زندگی کے لیے جس قدر نقصان دہ ہے اسی قدر برے انجام کا پیش خیمہ ہے۔ پہلی صورت میں صبر کا پیمانہ ہم سے چھن جا تا ہے۔ جب کہ دوسری صورت میں شکر کی نعمت سے ہم محروم ہو جاتے ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں دوسری صورت (فخرومباہات اور تکبر و انانیت )پر قرآن و احادیث کی روشنی میں اپنا محاسبہ مقصود ہے۔
اس ضمن میں پہلا نکتہ یہ ہے کہ انسان کا وجود اور اس کا آغاز و انجام خود اس کے لیے درسِ عبرت ہے۔ اس کے وجود کا آغاز ایک ناپاک قطرہ سے ہے اور اس کی حیاتِ مستعارکا اختتام سپردِ خاک ہوجانا ہے۔ پھر کہاں کی بڑائی اور کس چیز کا غرور اس کی رگ رگ میں دوڑ رہا ہے۔ اگر دولت و ثروت کانشہ ہے تو قارون کا ہیبت ناک انجام اس کے سامنے ہے ۔ اگر قوت اور فنی مہارت اس کے تکبر کو مہمیز لگا رہی ہے تو قومِ عاد کے ویران کھنڈرات کی سسکیاں اور پہاڑوں میں تراشے گئے عالیشان محلات کی ہچکیاں اس کے لیے نمونۂ عبرت ہیں اور اگر شوکت و عظمت پر اس کے فخرومباہات کی بنیاد ہے تو پھر اسے قیصروکسریٰ کی تاریخ دہرا نی چاہیے! جس کی شان اور آن کے صنم خانوں میں خاک اڑائی جاچکی ہے۔
تکبر اوربڑائی صرف اس ذات کو زیبا ہے جس کی جلالتِ شان سے ہر چیز پر لرزہ طاری ہے اور ہر بلندی اس کی عظمت کی چوکھٹ پر سرِ نیاز خم کیے ہوئے:
’’ولہ الکبریاء فی السموات والارض وہوالعزیز الحکیم‘‘
کی زمزمہ خوانی میں مصروف ہے !!
آسما ن کی رفعتوں میں اور زمین کے ذرّوں میں عظمت و کبریائی کی ساری جلوہ سامانیاں اسی ایک ذاتِ واحد کے لیے ہے اور وہی ساری حکمتوں کا زبر دست شہنشاہ ہے۔
یہ سچ ہے کہ جب یہ خاک کا پتلا فخروغرور کا مظاہرہ کر تا ہے تو نہ جانے کن کن خرافات کو اپنے دامنِ کبر میں جگہ دیتا ہے۔ کبھی اترا کر چلتا ہے، کھبی اکڑ کر بولتا ہے، ہر کسی کو اپنے سے کمتر و حقیر سمجھ بیٹھتا ہے، دولت وثروت کے نشے میں چوٗر؛ غریبوں اور ناداروں کو خاطر میں نہیں لاتا۔ ان کی مجلسوں میں نششت وبرخاست پر عار محسوس کرتا ہے، ان سے رواداری وبھائی چارگی میں اسے کسرِ شان کا گمان ہوتا ہے اور پھر اس سے ہر ایسے فعل کا صدور ہو نے لگتا ہے جس سے اس کی کمینگی و نا ہنجاری اور بد بختی و بدخصلتی ظاہر ہو تی ہے۔ اسی لیے قرآن اس کی حقیقت کو واشگاف کرتے ہو ئے اسے متنبہ کر تا ہے:
’’ولاتمش فی الارض مرحا انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولا‘‘(سورہ اسرا پ۱۵ آیت ۳۷)
تر جمہ: اور مت چل زمین پر اتراتا ہواتو پھاڑ نہ ڈالے گا زمین کواور نہ پہنچے گاپہاڑوں تک لمبا ہوکر‘‘
یہی وجہ ہے کہ قرآن نے مختلف مقامات پر اپنے خوبصورت اور عبرت آموز اسلوب میں تکبر و انانیت کی قباحت و شناعت اور اس کے ہلاکت خیز انجام سے انسان کو باخبر کیا ہے:160
’’ان اللہ لایحب من کان مختالافخورا‘‘(سورہ نساء۳۶)
بیشک اللہ کو پسند نہیں آتااترانے والابڑائی کر نے والا
’’واذاقیل لہ اتق اللہ أخذتہ العزۃبالاثم فحسبہ جہنم ولبئس المہاد‘‘(سورہ بقرہ:۲۰۶)
اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو آمادہ کرے اس کو غرور گناہ پر سو کافی ہے اس کو دوزخ اور وہ بیشک برا ٹھکانہ ہے‘‘
قرآن نے مختلف مقامات پر انسان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی بڑائی اور تکبر کو اپنے وجود کا حصہ نہ بنائے۔
احادیث بنویہ کا اعلان بھی بہت صاف اور واضح ہے ۔ آپ ﷺ نے انسان کواس کے برے انجام سے آگاہ کیا اور ایسے شخص کی محرومیوں، حسرتوں، افسردگیوں اور یاس انگیزیوں کو ظاہر کیا ہے :
’’عن عیاض بن حمار قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ أوحی الی ان تواضعوا حتی لایبغی احد علی احدولا یفخر احد علی احد (رواہ ابو داؤد)
تر جمہ : عیاض بن حمارؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ اللہ نے میری طرف وحی فر مائی اور حکم بھیجا کہ تواضع اور خاکساری اختیار کرو (جس کا بتیجہ یہ ہو نا چاہیے )کہ کو ئی کسی پر ظلم وزیادتی نہ کرے اور نہ کو ئی کسی کے مقابلے میں فخرومباہات کا مظاہرہ کرے۔
ایک اور روایت میں جہاں آپ ﷺ نے تواضع اختیار کر نے والوں کو حسنِ انجام کا مژدہ سنایا وہیں تکبر کر نے والوں کو انجام بد سے آگاہ کیا:
’’عن عمرؓ قال وہوعلی المنبر:یایہاالناس!تواضعوافانی سمعت رسول اللہ ﷺ یقول من تواضع للہ رفعہ اللہ فہوفی نفسہ صغیر،وفی اعین الناس عظیم، ومن تکبر وضعہ اللہ فہوفی اعین الناس صغیر وفی نفسہ کبیر حتی لہو اہون علیہم من کلب أوخنزیر(رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
تر جمہ: حضرت عمر فاروقؓ نے ایک دن خطبہ دیتے ہو ئے ارشاد فر مایا کہ لو گو ! فروتنی اور خاکساری اختیار کروکیو ں کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ سے سنا ہے :آ پﷺ فرماتے تھے جس نے اللہ کے لیے خاکساری کا رویہ اختیار کیا (بندگان خدا کے مقابلہ میں اپنے کو نیچا رکھنے کی کوشش کی )تو اللہ تعالی اس کو بلند کر گا۔(جس کانتیجہ )یہ ہو گا کہ وہ اپنے خیال اور اپنی نگاہ میں تو چھوٹا ہو گا لیکن عام بندگان خدا کی نگا ہوں میں اونچا ہو گااور جو کو ئی تکبر کر ے گا تو اللہ تعالی اس کو نیچا گرادے گا(جس کا نتیجہ )یہ ہو گا کہ وہ عام لو گوں کی نگاہوں میں ذلیل و حقیر ہو جا ئے گا گر چہ خود اپنے خیال میں بڑا ہو گا۔ لیکن دوسروں کی نظروں میں وہ کتوں اور خنزیروں سے بھی زیادہ ذلیل اور بے وقعت ہو جا ئے گا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشادفر مایا کہ:
’’ایک شخص(امم سابقہ)میں سے لباسِ فاخرہ پہنے جی ہی جی میں خوش ہوتا سر میں کنگھی کیے (بال سنوارے)متکبرانہ چال سے چلا جارہا تھا کہ اللہ تعالی نے اچانک اسے زمین میں دھنسا دیا اور اب وہ قیامت تک دھنستا ہی رہے گا’’(بخاری:۲۰۸۸۔مسلم:۵۴۵۲)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ تعالی نے فر مایا کہ عزت میرا پہناوا، کبریائی میری چادرہے ان دونوں کے بارے میں جو بھی مجھ سے جھگڑے گا میں اسے عذاب میں مبتلا کر دوں گا‘‘(مسلم:۲۶۲۰)
ان آیات و احادیث پر غو ر کر نے سے معلوم ہو تا ہے کہ انسان کے لیے احساسِ تفاخر کا کو ئی جواز نہیں۔ اس کے بر عکس جب ہم اس نکتے پر غور کر تے ہیں کہ جس نے بھی عاجزی و انکساری اور محبت و رواداری کو اپنا یااللہ نے اسے کامران کیا۔
آج ہمارے سماج میں لباس ،مکان،طعام، شادی بیاہ،سواری اوردیگر امور میں تفاخر وتقابل کا جو نظریہ سر اٹھا رہا ہے وہ یقیناًاپنے اندرافسوس کا پہلو رکھتا ہے۔مگر آج علمی میدان میں بھی ہم نے اس نظریے کو اپنا ناشروع کر دیا ۔ جو جس قدر جہالت میں آگے ہے وہ اسی قدر اپنی علمی گہرائی کے زعم میں مبتلا ہے۔ فتوے خود صادر کر تا ہے۔ مسائل کا استخراج کر تا ہے اور اس پر یہ تصور کہ’’ہم چوں دیگر ے نیست‘‘۔۔۔!!اور پھر و ہ دوسروں کو حقارت آمیز نظروں سے دیکھتا ہے اور اس کی ذلت و رسوائی کے سامان کرتا ہے۔ حالانکہ علمی اعتبار سے بھی ہمیں کسی پر کو ئی افتخار نہیں۔ صحیح علمی گہرائی انسان کو متواضع بناتی ہے۔جس کے راز پر آگاہی کا ئنات پر غور کر نے سے ہو تی ہے۔اللہ تعالی نے جس قدر با ریکیاں اور حکمت کی تہہ داریاں اس کائنات میں رکھی ہیں کہ انسان اس کے پا نے سے عاجز ہے۔ بہت کچھ جان کر بھی اسے اس بات کا احساس ہو تا ہے کہ اس نے اس کائنات کے اسرار کا عشر عشیر بھی نہیں جا ن سکا ہے۔یہیں سے اس میں عاجزی اور انکساری کی صفت پیدا ہو تی ہے ۔ ہاں اگر وہ مد مقابل سے زیادہ جان کار ہے تو اس کی ذمے داری اس تک اپنے علم کی تر سیل کی ہے جس میں خلو ص ہو ، دکھلاوا یا تضحیک نہ ہو ۔

اتوار، 24 ستمبر، 2017

واقعہ کربلا:انسانی منشور کا روشن باب

 

          واقعہ کربلا:انسانی منشور کا روشن باب

عبدالوہاب قاسمی

   انسا نی تا ریخ کے مطا لعے سے یہ حقیقت آشکا را ہوتی ہے کہ سینکڑوں وا قعات ایسے ہیں جنکی درخشندگی کو وقت نے ما ند کر دیا ہے،جنکے حسن وجمال کوچھین لیا ہے اور صدہا قصے ایسے ہیں جو زما نہ کی دھول میں دب چکے ہیں ……کچھ ہی ایسے حقا ئق اور صد اقت ہیں جو اب بھی نعمت بے بہا کے مترا دف ہیں،امتداد زما نہ کے نشیب و فر از کے با وجود انکی کر نیں آج بھی انسا نی قلوب کو روشن کر تی ہیں،نہ انکی اہمیت کم ہوئی ہے اور نہ ہی تب وتا ب میں کو ئی خلل واقع ہو ا ہے۔



    تا ریخ کے سینے میں پیوست ایک واقعہ ئ دلخراش ”شہا دت حسین ؓ “ ہے جو دشت کر بلا میں یزید کے طا غوتی لشکر کے ہا تھوں عمل میں آیا،جو تا ریخ انسا نی کا ایسا المناک سا نحہ ئعظیم ہے کہ چودہ سو سال گذرجا نے کے بعد بھی وہ زخم آج ہر قلب ایما نی میں با عث حزن وملال اور وجہ درد وکسک بنا ہواہے،جب جب ما ہ محرم الحرام اپنی عظمتوں اور بر کتوں کو سمیٹے ڈوبتے سورج کے سا تھ شفق کی گلگوں چا در پر جلوہ آرا ہو تا ہے تو روح انسا نی کا نپ اٹھتی ہے،اسکے دریا ئے اشک میں تموج بر پا ہو تا ہے،کر بلا کا خوں فشا ں منظر آنکھوں میں رقص کر تا ہے،اس منظر میں صبرو استقا مت،حق ودیا نت،جر أت و شجا عت،عا لی حوصلہ و بلند ہمت ایک مرد آہن حق کی للکا ر سے فضا ئے با طل میں ارتعا ش پیدا کر تا دکھا ئی دیتا ہے۔
     اس سا نحہ پر انسا نی آنکھیں روزاول سے ہی گریہ و زاری کر رہی ہیں،نوحہ وما تم کا جاں گسل منظر پیش کر رہی ہیں،دینا کا ہرفرد بشر انکی شہادت کے غم میں برابر کا شریک ہے،ابتدائے آفرینش سے ہی انسانی قافلوں کی آمدو رفت جا ری ہے،ہر دن کسی نہ کسی کی موت کی جا نکاہ خبریں انسا نی وجود کودہلا تی ہیں،لیکن کیا کوئی ایسی ہستی ہے جسکی موت پر چودہ سو سال سے بلا انقطاع ہر آنکھیں اشکبار ہوئی ہو ں؟؟گردش دوراں اور ہنگا مہ ئروزگار کے بے رحم ہا تھو ں کو بھی یہ جرأت نہ ہو سکی کہ وہ حضر ت حسین ؓ کی اس عظیم شہادت پر غفلت کی چادریں تان سکے،بلکہ جب جب محرم الحرام کی دسویں تاریخ آتی ہے خراج عقیدت کے عا لمی پیما نے میں اضافے ہی ہو تے ہیں،اورانسان اس روشن مینار کی دعوت فکر وعمل کے فلسفہ کی گہرا ئیوں میں اتر نے کی جستجو کر تا ہے  ……یہ صرف مظلومیت کی ایک تا ریخ نہیں بلکہ با طل کے خلاف حق گو ئی،حق جوئی،حق طلبی،حق پرستی،غیرت و حمیت،عزیمت و حریت اور شجا عت و ہمت کا ایک تا بندہ استعا رہ بھی ہے،خدا پرستی اور دین حنیف کی پیروی کی یہی وہ شا ہراہ ہے جہاں نجاح و فلاح ہے،خوشنودی ئرب ہے،عظمت انسا نی کی حکمر انی ہے،اقبا ل مندی و فیروز بختی ہے،رفعت ورحمت کی نوید ہے،احکم الحا کمین کی قربت کا مژدہ ہے اور حیات ابدی کی بشا رت ہے ……وہ بشا رت جسکے لئے ہر دل مچلتاہے اور قلوب انسا نی انگڑائی لیتے ہیں،کون مومن قلب ہے،جس میں یہ آرزو نہ ہو کہ جب وہ زندگی کی آخری سا نسیں گن رہا ہو،دنیا کی دلفریبیوں پر حسرت بھری نگا ہیں ڈال رہا ہو اور عا لم فا نی سے عا لم جا ودانی کیطرف محو سفر ہو توفرشتے اس کے استقبال کو نہ آئیں،قبر انہیں خوش آمدید نہ کہے،نیکیوں اور اعمال صا لح سے اسکا دامن مراد بھرا ہو ا نہ ہو،پا سبا نی ئحق اور نگہبا نی ئصدا قت اس کا طرہ ئامتیاز نہ ہو؟؟یقینا یہی ہر اس دل کی پکا ر ہے جس میں ایما ن کی قندیلیں روشن ہیں،لا الہ کی رمق با قی ہے۔
     محمد عربی ﷺ کے نواسے،حضرت علی ؓ کے جگر گو شے،حضرت فاطمہ ؓکے جگر پارے،جنت کے جوانوں کے سردار حضرت امام حسین ؓ،جو نسبت میں اعلی و ارفع،مر تبہ میں بلند وبا لا،زہد ورع کا استعارہ،ایثار وقربانی کی شمع فروازاں،حق گو ئی و بے باکی کے مر دجواں اور بزرگی کے آفتا ب درخشاں کے لئے نہ کسی مر تبے کی کمی تھی،نہ عہدے کی قلت تھی اور نہ ہی جاہ ومنصب کے دروازے بند تھے،انہیں تو جنت میں سرداری کا مژدہئ جا نفزا سنا یا جا چکا تھا،وہاں کی ہر نعمتوں سے لطف اندوز ہو نے کی بشارت دی جا چکی تھی ……آخر وہ کیوں خون کے دریا میں کود جا نے کو بے قرار تھے،اہل کو فہ کی غداری کی تا ریخ انکے سا منے ہو یدا تھی،یہی وہ بے وفا تھے جنہوں نے انکے والد محترم حضرت علی ؓ کو سخت اذیتوں سے دوچار کیا تھا،حضرت علی ؓ کے اخلاص کے باوجود وہ کبھی مخلص نہ بن سکے تھے،پھر بھی کیوں حضرت امام حسین ؓ کر بلا کی پیاسی ریت کو اپنے مقدس لہو سے سیراب کرنے کو بے تاب تھے؟اور مخملیں راہوں کو چھوڑ کر راہ پر خار پر محو سفر ہو چکے تھے ……اسی سوال کا جواب آج بھی قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے!!ا ور مر دہ ضمیر کونئی روح اور نئی توانائی عطا کرسکتا ہے ……مگر کب؟؟جب ہم اس المناک واقعہ کے پس پردہ جھا نکنے کی جرأ ت کر سکیں گے اور حضرت امام حسین ؓ کے اس روشن عمل کے اسباب و عوامل پر غور کر سکیں گے!!یقینا وہ اسباب یہی تھے ”احقاق حق و ابطال باطل“کہ حق کی سر خروئی ہو اور باطل کی دردناکے موت ہو،انہیں اس عمل کو انجام تک پہونچا نے کے لئے گر دش ایام کی فکر نہیں تھی،اظہار حق کے لئے انکے سامنے یہی پیما نہ تھا کہ   ؎                                                نہ ما ل غنیمت نہ کشور کشا ئی             شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن
    اظہار حق کا یہ ولولہ اور با طل کے سا منے سر تسلیم خم نہ کرنے کا یہ عزم مصمم بھی اسی نو رانی ما حول کی مر ہون منت تھی جسمیں آفتاب رسالت ﷺپورے آب وتا ب کے ساتھ روشن و منور تھا،جہاں مصلحت کا وجو د ہی نہ تھا،بڑھتے قدم کو کھینچنے کاسوال ہی نہ تھا،جہاں کسی قسم کا خوف و ہراس ارادوں اور اقدامات کے لئے ما نع نہ تھا،جہاں سچا ئیوں کے لئے جینا اور مر نا تھا،حضرت امام حسینؓ کی پو ری زندگی اسی ما حول کی تعبیر و تفسیر تھی،آپنے جو کچھ کیا وہ اس روشن تعلیمات کا نتیجہ تھا جو آپ کی رگوں میں لہو بن کر گر دش کر رہی تھیں، پیغمبر ﷺ آپنے کے نانا،والد محترم شیر خدا اور با ب العلم اور والدہ محتر مہ نبی کی چہیتی خا تون جنت،پا کیزہ ما حول،مقدس صحبتیں،نو رانی محلفیں،خدائی نو ازشات کی بارش جن پر مو سلا دھار تھی،رضائے الہی جنکا مقدر تھی،محبو بیت جنکی زندگی کا تا بندہ عنوان تھی اور محفل الہی میں تقرب جنکی شنا خت تھی،انکی حسین وجمیل آغوش نے اور قا بل صد افتخار پر ورش و پر داخت نے حضرت امام حسین ؓجیسے صدق وصفا کے خوگر،عظیم حو صلوں کے مالک،گو ہر شب تا ب،متقی و پر ہیز گار،صالح،نیک،حلیم،بردبار اور با وقار و با عظمت انسا ن سماج اور معا شرہ کو عطا کیا،
    حضرت امام حسین کی شہادت میں بقائے انسا نیت کا رازمضمر ہے،انسا نی کر دار وعمل کی کا میابی کی ضمانت ہے،آپنے حق و انصاف اور جرأت و پا مرا دی کی جو تا ریخ رقم کی ہے،وہی ہرد ور کی سسکتی انسا نیت اور کرا ہتی زندگیوں کی رہنما ئی کا پیما نہ ہے،جب بھی بلکتی انسا نیت اس پیما نہ میں سما جا ئے گی وہ زندہ جاوید ہو جا ئیگی ……آج کے ظلمت کدے کوبھی حضرت حسین ؓ کے کر دار کی روشنی درکار ہے،یہ صدی بھی حضر ت حسین ؓجیسے جری و بہادر اور برگزیدہ ہستی کے انتظار میں صبح و شا م کا سفر طے کر رہی ہے،جو اپنے ایثار وقربا نی،اخلاص و للہیت اور حق وصداقت کی آبیا ری سے وہ عظیم کا رنا مہ انجام دے جس کے لئے انسا نیت کی آنکھیں پتھرا گئی ہیں۔
    حضرت حسین ؓ کی یہ شہادت اس بات کا اعلان ہے کہ ”اسلام زندہ ہو تا ہے ہر کربلا کے بعد“یہ محض اپنی ذات یا اپنے آ ل و اولاد کے ساتھ بہتر سر فروشوں اورجاں نثاروں کی قربا نی نہ تھی،بلکہ اسلام دشمن قافلوں کی منصو بہ بند سا زش کے خلاف عرفا نی اور روحا نی قوتوں کا مظاہرہ تھا،اسلا می شعائر پر با طل طا قتوں اور روئے زمین پرشیطان و ابلیس کے دندنا تے کا رندوں کے لئے ضرب کا ری کا اسلامی جذبہ تھا اور ہر دور کے اسلام پسندو ں کے لئے یہ پیغام تھا کہ اسلام کی سر خر وئی اور سر بلندی کے لئے اپنی قیمتی متاع تک کو قربان کر نے سے دریغ نہ کر نا ہی محب اسلام کا شعار ہے۔انہو ں نے کہا تھا ”میں مدینہ سے اس لئے رخت سفر نہیں با ندھ رہا ہو ں کہ لو گوں پر ظلم کروں او رزمین پر فسا د مچا ؤں،بلکہ میر ے نانا محمد ﷺکی امت پر جو ظلم و فساد کی آندھیاں چل رہی ہیں اور اللہ کے نیک بندوں پر مکر و فریب کاجو جال پھیلا رہے ہیں انکی اصلاح کے لئے نکلا ہوں“۔
     ۰۱/ محرم الحرام کی تا ریخ کو یہ مختصر قا فلہ کر بلا کی تپتی ریت اور بے آب و گیاہ میدان میں خیمہ زن ہوااور بہا دری و دلیری،جو ا نمرد ی و جر أت مندی اور عزم و حو صلہ کاجو مظا ہرہ پیش کیا اسے دیکھ کر چشم فلک بھی حیران و ششدر تھا،موت کے ہولناک مناظر دلوں کو دہلا رہے تھے،آسمان شعلہ اگل رہا تھا،زمیں انگا رے بن چکی تھی، حضرت حسین ؓاپنے عزیزو اقار ب اور اپنے جگر گوشوں کی خاک و خون میں لت پت تڑپتی لا شوں کو اپنے بے بس کا ندھوں پر لا رہے تھے،کئی دنوں کی شدت پیاس سے بدن نڈھال ہو چکا تھا ……مگر پائے حضرت حسین ؓمیں استقا مت کی قندیلیں روشن تھیں،خیمے میں کہرام مچا تھا،زمین وآسمان ہچکیاں لے رہے تھے،خون کے اس ہو لناک ساعت میں وہ وقت بھی آگیا جب نوا سہئ رسول کے مقدس لہو سے کر بلا کی پیاسی ریت سیراب ہو چکی تھی۔ آپ کا لا شہ تپتی ریت پر پڑا تھا،آہ……!!وہ سر تن سے جدا ہو چکا تھا،جسکی پیشانی پر لب اقدس کے بوسے چمک رہے تھے،خانوادہئ رسول ﷺ کے آخری چشم وچراغ لباس شہادت میں حیات ابدی پاکر زندہئ جا وید ہو چکے تھے۔
دیگر واقعات کی طرح شہادت حسین ؓمحض ایک تا ریخی واقعہ ہی نہیں،بلکہ یہ انسا نی حیات کا روشن منشور ہے،انسا نیت کی راہو ں کے لئے مشعل ضیابار ہے،مو ت و حیات کی درمیا نی مدت کے بسر کرنے کا حسین دستو رہے،صر ف مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ پو ری اقوام وملل کے لئے اسمیں پیغام حیات مو جودہے، بقول پنڈت جو اہر لا ل نہرو ”حسین کی قربا نی ہر فر قے وقوم کے لئے مشعل راہ ہے“۔  اس واقعہ کے غا زیا نہ پہلو اگر ہمیں اسلام کی سر بلندی کے لئے جان تک قربا ن کر نے کے جذبہ ئروحا نی سے سر شا ر کر تے ہیں تو داعیا نہ گوشہ اسلام کی روشن تعلیمات پر عملی ہدا یت کا درس دیتا ہے۔اس واقعہ کی تہہ میں اسلامی شعائر اوردینی مسلمات کے تحفظ کیلئے جن جذبات واحساسات کی لہریں مو جزن ہیں اور جو ایما نی تقاضے اس واقعہ کے محرک ہیں،آج وہ سا رے تقاضے اپنے وجو دکے ساتھ ہم سے یہی مطا لبہ کر رہے ہیں کہ آج ہم میں کا ہر فرد حسینی جذبے سے سر شا ر ہوکر یزیدیئ عہد کے سا منے سینہ سپر ہو جائے۔                  دیگر واقعات کی طرح شہادت حسین ؓمحض ایک تا ریخی واقعہ ہی نہیں،بلکہ یہ انسا نی حیات کا روشن منشور ہے،انسا نیت کی راہو ں کے لئے مشعل ضیابار ہے،مو ت و حیات کی درمیا نی مدت کے بسر کرنے کا حسین دستو رہے،صر ف مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ پو ری اقوام وملل کے لئے اسمیں پیغام حیات مو جودہے، بقول پنڈت جو اہر لا ل نہرو ”حسین کی قربا نی ہر فر قے وقوم کے لئے مشعل راہ ہے“۔  اس واقعہ کے غا زیا نہ پہلو اگر ہمیں اسلام کی سر بلندی کے لئے جان تک قربا ن کر نے کے جذبہ ئروحا نی سے سر شا ر کر تے ہیں تو داعیا نہ گوشہ اسلام کی روشن تعلیمات پر عملی ہدا یت کا درس دیتا ہے۔اس واقعہ کی تہہ میں اسلامی شعائر اوردینی مسلمات کے تحفظ کیلئے جن جذبات واحساسات کی لہریں مو جزن ہیں اور جو ایما نی تقاضے اس واقعہ کے محرک ہیں،آج وہ سا رے تقاضے اپنے وجو دکے ساتھ ہم سے یہی مطا لبہ کر رہے ہیں کہ آج ہم میں کا ہر فرد حسینی جذبے سے سر شا ر ہوکر یزیدیئ عہد کے سا منے سینہ سپر ہو جائے۔             
    دیگر واقعات کی طرح شہادت حسین ؓمحض ایک تا ریخی واقعہ ہی نہیں،بلکہ یہ انسا نی حیات کا روشن منشور ہے،انسا نیت کی راہو ں کے لئے مشعل ضیابار ہے،مو ت و حیات کی درمیا نی مدت کے بسر کرنے کا حسین دستو رہے،صر ف مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ پو ری اقوام وملل کے لئے اسمیں پیغام حیات مو جودہے، بقول پنڈت جو اہر لا ل نہرو ”حسین کی قربا نی ہر فر قے وقوم کے لئے مشعل راہ ہے“۔  اس واقعہ کے غا زیا نہ پہلو اگر ہمیں اسلام کی سر بلندی کے لئے جان تک قربا ن کر نے کے جذبہ ئروحا نی سے سر شا ر کر تے ہیں تو داعیا نہ گوشہ اسلام کی روشن تعلیمات پر عملی ہدا یت کا درس دیتا ہے۔اس واقعہ کی تہہ میں اسلامی شعائر اوردینی مسلمات کے تحفظ کیلئے جن جذبات واحساسات کی لہریں مو جزن ہیں اور جو ایما نی تقاضے اس واقعہ کے محرک ہیں،آج وہ سا رے تقاضے اپنے وجو دکے ساتھ ہم سے یہی مطا لبہ کر رہے ہیں کہ آج ہم میں کا ہر فرد حسینی جذبے سے سر شا ر ہوکر یزیدیئ عہد کے سا منے سینہ سپر ہو جائے۔             
  

جمعہ، 18 نومبر، 2016

ہر وقت توحیداورذکر رسالت ﷺ سے معمور یہ کائنات

ہر وقت توحیداورذکر رسالت  ﷺ سے معمور یہ کائنات
قارئین ……!میری ڈائری میں ذکر محمد ﷺ سے متعلق یہ روح افز حقیقت درج ہے جو
قارئین کے لیے پیش خدمت ہے……!!


دنیا میں ہر وقت گونجنے والی آواز یعنی اذان کی آواز ہے۔ رپورٹ کے مطابق
انڈونیشیا کے مشرق میں واقع جزائر سے طلوع آفتاب کے ساتھ ہی فجر کی اذان شروع
ہو جا تی ہے اور بیک وقت ہزاروں مؤ ذن اللہ کی تو حید اور رسول اللہ کی رسالت
کا اعلان کر تے ہیں۔مشرقی جزائر سے یہ سلسلہ مغربی جزائر تک چلا جاتا ہے۔ ڈیڑھ
گھنٹے بعد یہ سلسلہ سماٹرا میں شروع ہو جا تا ہے اور سماٹرا کے قصبوں
اوردیہاتوں میں اذانیں شروع ہو نے سے پہلے ہی ملایا کی مسجد میں اذانوں کا
سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور ایک گھنٹہ کے بعد ڈھاکہ پہنچتا ہے۔رپورٹ کے مطابق
بنگلہ دیش میں ابھی اذانیں ختم نہیں ہو تیں کہ کلکتہ سے سری لنکا تک فجر کی
اذانیں شروع ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف یہ سلسلہ کلکتہ سے ممبئی تک پہنچتا ہے اور
پو رے ہندوستان کی فضا تو حید اور رسالت کے اعلان سے گونج اٹھتی ہے۔ رپورٹ کے
مطابق سری نگر اورسیال کوٹ میں فجر کی اذان کا وقت ایک ہی ہے سیال کوٹ سے
کوئٹہ کراچی اور گوادر تک چالیس منٹ ہیں اس عرصہ میں فجر کی اذانیں پاکستان
میں گونجتی رہتی ہیں۔ پاکستان میں یہ سلسلہ شروع ہو نے سے پہلے افغانستان اور
مسقط میں اذانیں شروع ہو جاتی ہیں۔مسقط سے بغداد تک ایک گھنٹے کا فر ق ہے اس
عرصہ میں اذانیں سعودی عرب، یمن،متحدہ عرب امارات،کو یت اورعراق تک گو نجتی
رہتی ہیں۔ بغداد سے اسکندریہ تک پھر ایک گھنٹہ کا فرق ہے اس وقت
شام،مصر،سومالیہ اورسوڈان میں اذانیں شروع ہو جاتی ہیں۔ اسکندریہ سے طرابلس تک
ایک گھنٹہ کا فرق ہے۔ اس عرصہ میں شمالی امریکہ، لیبیااور تیونس میں اذانوں کا
سلسلہ شروع ہو جا تا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فجر کی اذان جس کا آغاز انڈونیشیا کے
مشرقی جزائر سے شروع ہواتھا  ساڑھے نو گھنٹے کا سفر طے کر کے بحر اوقیانوس کے
مشرقی کنارہ تک پہنچتی ہیں۔
فجر کی اذان بحر اوقیانوس تک پہنچنے سے پہلے مشرقی انڈونیشیا میں ظہر کا سلسلہ
شروع ہو جاتاہے اور ڈھاکہ میں ظہر کی اذانیں شروع ہو نے تک انڈونیشیا میں عصر
کی اذانیں بلند ہو نے لگتی ہیں۔ یہ سلسلہ ڈیڑھ گھنٹے میں بمشکل جکارتا تک
پہنچتا ہے اور مشرقی جزائر میں مغرب کی اذانوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ مغرب
کی اذانیں بھی سیلز سے سماٹرا تک ہی پہنچتی ہیں کہ اتنے میں انڈونیشیا کے
مشرقی جزائر میں عشا ء کی اذانیں
شروع ہو جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کرہئ ارض
پر ایک بھی سیکنڈ ایسا نہیں کزرتا ہو گا جب سینکڑوں ہزاروں بلکہ لا کھوں مؤذن
اللہ تعا لی کی تو حید اور رسول ﷺ کی رسالت کا اعلان نہ کرتے
ہوں۔(بحوالہ:بکھرے موتی ج ہشتم ص ۵۶۸تا۶۶۸)
اشفاق کریم ارریاوی