تخلیق (شاعری) لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تخلیق (شاعری) لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 20 مئی، 2021

اے میرے خدا اے میرے خدا 22/05/2021

 اے میرے خدا اے میرے خدا


حامد حسین




اے میرے خدا اے میرے خدا
ہے کوئی نہیں یاں تیرے سوا
یہ ارض و سما یہ شمس و قمر
یہ پانی ہوا یہ بحر و بر
ہے سب کا خالق تو ہی خدا
اے میرے خدا اے میرے خدا
چڑیوں کی چہک پھولوں کی
مہک
گلشن میں جہاں کے ہے جو چمک
بخشش ہے تری یہ تیری عطا
اے میرے خدا اے میرے خدا


بدھ، 8 مارچ، 2017

حمدباری


حمد باری تعالیٰ



ہم کوجوملے
پیغام تیرے
دل جھوم اٹھے
رگ رگ میں
کئی پھول کھلے
ہرسمت بڑھے
پیروں کےتلے
کئی خارچبھے
کبھی درداٹھے
کبھی غم سے ملے
جاناتھاکہاں
جاپہنچے کہاں
دیکھاجوجہاں
کئی راز ملے
کچھ افشا افشا
کچھ پنہاں پنہاں
کھویاتھامگر
ڈھونڈاہے جدھر
پائی نہ خبر
اب جائیں کدھر
ہرسانس میں تو
ہرآس میں تو
پاس بھی تو
دور بھی تو
بن گئی
ذات تری
جستجو ہی جستجو
کہتاہے
پیغام ترا
ذات تری
مجھ میں ہےکہیں
یہ روح ہےکیا؟
یہ ذات ہےکیا؟
فکر کی انتہا؟
نہیں نہیں
کون ہے وہ ؟؟
جس نے ہے دیا
بے انتہا بےانتہا
عنایتیں نوازشیں
رحمتیں برکتیں
مانگابھی نہیں
پھربھی ہےدیا
ضرورت سےپرے
حاجت سے پرے
سب کو ہے دیا
انکار میں بھی
اقرارمیں بھی
کبھی کبھی ساحل ساحل
کبھی منجدھار میں بھی
روٹھابھی اگر
پھربھی ہےدیا
اے خدااے خدا
ذات تری
ہےحدسےسوا
کون کرےبیاں
ذات تری
لامکاں ہے لامکاں


جمعہ، 28 اکتوبر، 2016

سارے جہاں سے اچّھا ہندوستان ہمارا


سارے جہاں سے اچّھا ہندوستان  ہمارا

سارے جہاں سے اچّھا ہندوستان  ہمارا
مشکل  بہت   ہے    لیکن   جینا   یہاں   ہمارا

سب  بلبلیں یہ کہہ کر خاموش  ہو  گئیں  ہیں
کووؤں کے شور  میں اب  نغمہ   کہاں   ہمارا

پربت وہ سب سے اونچا غم سے پگھل رہا ہے
معلوم   ہے   اسے    بھی    درد     نہاں  ہمارا

گودی  میں  کھیلتی   اسکی   غلیظ   ندیاں
گلشن ہے جن کے  باعث اک  کوڑا  داں   ہمارا

ہندوتو  نے   سکھایا   آپس   میں  بیر  رکھنا  
الفت   کا    راگ   سارا    ہے    رائگاں    ہمارا

ہم بے وفا ہی سمجھے جاتے رہے ہیں اب تک
سو  بار  لے   چکے   ہیں   یہ   امتحاں   ہمارا

ہر  پیڑ  پر   ہیں  الّو   قبضہ   جمائے  بیٹھے 
کس   شاخ  پر   بنے   گا   اب   آشیاں   ہمارا

عصمت دری،گھٹالے، غارت گری   ہے   ہر  سُو 
ہے   مضحکہ    اڑاتا     سارا     جہاں    ہمارا

جنّت  نما چمن  پر   کیونکر   خزاں  نہ  آ ئے 
اک   بلبلوں   کا    قاتل   ہے    باغباں    ہمارا

دہشت   گری    کا   ہم    پر   الزام   آرہا   ہے
اب  تو   وجود  تک  ہے   ان کو   گراں  ہمارا

ہم کو مٹانے والے سب  مٹ  گئے  جہاں  سے
اب تک  مگر   ہے   باقی   نام و نشاں   ہمارا

اقبال    آج     ہوتے   تو    آہ  ،  آہ    کر   کے
کہتے     بدل    گیا     ہے    ہندوستاں   ہمارا

منگل، 24 مئی، 2016

پیروں کی نااہلی

مذکورہ شرائط کو سامنے رکھتے ہوئے اگر موجودہ پاکستانی معاشرہ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ہر طرف ایسے کاروباری پیروں کی فوج ظفر موج نظر آئے گی جن میں مذکورہ شرائط کا دور دور تک پتہ نہیں ہو گا۔ کسی کا عقیدہ خراب ہے تو کسی کا سلسلہ غیر متصل۔۔۔ کوئی پابند سنت نہیں ہے تو کوئی اعلانیہ فاسق و فاجر۔۔۔ علم کی شرط ملاحظہ کریں تو اس پر پورے ملک میں معدودے چند پیر صاحبان ہی بمشکل پورے اترتے نظر آئیں گے۔ جعلی پیروں کا بہت بڑا لشکر نہ صرف یہ کہ قرآن و حدیث اور فقہ و کلام سے بے خبر ہے بلکہ وہ علم اور علماء کا سخت دشمن بھی ہے۔ کیونکہ جس طرح سرمایہ دار، جاگیردار اور سیاستدان کی خیر اسی میں ہے کہ قوم جاہل مطلق رہے اسی طرح جھوٹے پیروں کی شان و شوکت کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ قوم علم و عمل سے بے گانہ رہے۔ کیونکہ ان پڑھ لوگ ان کو جس طرح چومتے چاٹتے ہیں اس طرح پڑھے لکھے لوگ نہیں کرتے۔ کسی بھی پیر کے ملاقاتیوں کو ملاحظہ کر لیجئے آپ کو ان پڑھ اور پڑھے لکھے لوگوں کے اندر ملاقات میں نمایاں فرق نظر آئے گا۔

انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس طرح کے تمام جعلی، بناوٹی اور کاروباری پیر اپنے آپ کو مسلک حق اہل سنت وجماعت سے منسوب کرکے اس کی بدنامی اور رسوائی کا سبب بنتے ہیں۔ نیز وہ علماء سے یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ وہ ان کی نام نہاد بزرگی پر مہر تصدیق ثبت کریں۔ یہ ننگِ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن لوگ ایسے زہریلے ہیں کہ انہوں نے اپنی شہوت کاریوں سے مسلک حق کو ادھ موا کرکے رکھ دیا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ نامور بزرگوں کی گدیوں سے منسوب ہیں۔ عمل صالح اور شریعت کی پابندی تو کجا وہ کرپٹ لوگوں کی سرپرستی کرتے ہیں رسہ گیروں سے ان کی دوستیاں ہیں۔ الیکشن میں مسلک کے نام کو استعمال کرتے ہوئے یہ لوگ ممبر اسمبلی بنتے ہیں اور پھر سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر انہی کے ایجنڈے کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں۔ اس تمام خرابی کی بنیاد درحقیقت ان کاروباری مولویوں نے فراہم کی ہے جو انہیں (معمولی خدمت کے عوض) لوگوں کے سامنے غوث زماں، قطب عالم، شہنشاہ ولایت وغیرہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔

ان حضرات کی سیرت و کردار کو قریب سے دیکھیں تو ان کے فرعونی لہجے، شیطانی عادات و اطوار، یزیدی رسوم و رواج۔۔۔ غنڈوں اور بدمعاشوں کی سرپرستی، چوروں اور ڈاکوؤں کی پشت پناہی۔۔۔ باطل اعمال اور عقیدے، اعراس کے نام پر اسلام کش میلے ٹھیلے۔۔۔ کتوں اور ریچھوں کے مقابلے، قبروں اور مزاروں کی تجارت۔۔۔ صالحین کی تعلیمات پر عمل کی بجائے تعمیرات سے ولایت کی پیمائش۔۔۔ علماء کے خلاف سینوں میں بھڑکتی آگ، جہالت و رعونت میں اپنی مثال آپ۔۔۔ دین و شریعت کی بات پر منہ سے نکلتے انگارے۔۔۔ نماز روزے کا وقت آنے پر مرض اسہال، زکوۃ و جہاد کا نام سنتے ہی پیٹ میں درد قولنج۔ ۔ ۔ غیر محرم عورتوں کو بے پردہ مرید کرنا اور ان سے ٹانگیں دبوانا۔۔۔ یہ ہیں وہ کالے کرتوت جو ان ’’پیروں‘‘ کے نامہ اعمال میں درج ہیں۔

اگر آپ ان کے کفریہ و شرکیہ اور مبالغہ آمیز اشعار پر مصنوعی طور پر بدمست ہو کر جھومنے اور ناچنے والے جاہل مریدوں کو دیکھیں تو گویا انہ

بدھ، 18 مئی، 2016

ڈنک

"امروہا میں حضرت شرف الدّین شاہ ولایت کا مزارِ مبارک مرجع خاص و عام ہے۔ اُس کے احاطے اور اطراف و نواح میں زہریلے بچھو بکثرت پائے جاتے ہیں۔ لیکن کبھی کسی کو ڈنک نہیں مارتے۔ اگر کوئی اُن کو چُھو لے یا چھیڑے یا اٹھاکر ہتھیلی پر رکھ لے تو اپنا ڈنک سکیڑ لیتے ہیں۔ یہ حضرت شاہ ولایت کا اعجاز و فیضان ہے۔

کچھ دن ہوئے، ایک تجویز ذہن میں آئی۔ وہ یہ کہ ہمارے چند سیاست دانوں، شاعروں، لیکھکوں، نقادوں، اخباروں اور رسالوں کے مُدیروں کو بچھوؤں کے ساتھ چند روز گزارنے کے لیے سرکاری خرچ پر امروہے بھیج دیا جائے تاکہ اُن کے فیضانِ صحبت سے یہ حضرات اپنے معاصرین کو کاٹنا اور ڈنک مارنا چھوڑ دیں۔"
( شام شعریاراں سے)

پیر، 8 فروری، 2016

رباعیات.ازڈاکٹرظفرکمالی

رباعیات.ازڈاکٹرظفرکمالی 
خطروں سے بھری یہ آرزو مندی ہے
دنیا کی شراب مت پیو گندی ہے
ناپاک ہے یہ اسی لےے تو اس پر
ساقیِ حقیقی کی پابندی ہے
........
جب دل کی قرابت ہو تو وہ خالص ہو
اظہارِ محبت ہو تو وہ خالص ہو
ڈر ہے نہ کہیں منزل کھوٹی ہو جائے
ساقی کی ارادت ہو تو وہ خالص ہو
........
ایمان میں ایقان میں پورے اترو
تم نفس کے عرفان میں پورے اترو
ساقی کے چہیتے ہو کیا کرتے ہو
اعمال کی میزان میں پورے اترو
........
فطرت کا تقاضا ہے کہ گھر صاف رکھو
دل صاف رکھو اپنی نظر صاف رکھو
آنا ہے اسی راہ سے ساقی کو ظفر
عاقل ہو تو یہ راہ گزر صاف رکھو
........
پہنچیں گے بھلا کیسے وہ صحت کے قریب
اوہام کے ماروں کا کہاں ایسا نصیب
اچھا تو یہی ہوتا کہ بیماری میں
ساقی کو بنا لیتے وہ اپنا طبیب
ظفر کمالی
شعبہ فارسی۔ زیڈ اے اسلامیہ کالج، سیوان(بہار)
09431056963
****

پیر، 4 جنوری، 2016

متفرق رباعیاں

متفرق رباعیات
تھا جوش و خروش اتّفاقی ساقی
اب زندہ دِلی کہاں ہے باقی ساقی
میخانے نے رنگ روپ بدلا ایسا
میکش میکش رہا، نہ ساقی ساقی
(ابوالکلام آزاد)

تحقیق کو بے سود سمجھنے والو
انسان کو بے سود سمجھنے والو
تقدیر و توکل سے عمل بہتر ہے
اے وہم کو معبود سمجھنے والو
(احسان دانش)

میخانہ بدوش ہیں گھٹائیں ساقی
پیمانہ فروش ہیں فضائیں ساقی
اک جام پلا کے مست کر دے مجھ کو
غارت گرِ ہوش ہیں ہوائیں ساقی
(اختر شیرانی)

تیزی نہیں منجملۂ اوصافِ کمال
کچھ عیب نہیں اگر چلو دھیمی چال
خرگوش سے لے گیا ہے کچھوا بازی
ہاں راہِ طلب میں شرط ہے استقلال
(اسمٰعیل میرٹھی)

قائل ہم بھی ہیں دوزخ و جنت کے
معنی کے ہیں معتقد نہیں صورت کے
دوزخ، تاریکیاں تری دوری کی
جنت، انوار ہیں تری قربت کے
(تلوک چند محروم)

دنیا میں رسول اور بھی لاکھ سہی
زیبا ہے مگر حضور کو تاجِ شہی
ہے خاتمہٴ حسنِ عناصر ان پر
ہیں مصرعہٴ آخر اس رباعی کے وہی
(حامد حسین قادری)

دل میں ہوسِ درہم و دینار نہ رکھ
خم پشت ہے عصیاں کا بہت بار نہ رکھ
پیری میں سر اِس غرض سے ہلتا ہے صفی
یعنی دنیا سے اب سروکار نہ رکھ
(صفی لکھنوی)

کیا افسرِ جمشید ہے کیا دولت کَے
بیکار ہے زر فشانیِ حاتم طَے
میں بادہ گسار ہوں مجھے کافی ہے
یا ساغر ماہتاب یا ساغر مَے
(عابد لاہوری)

ہر چند کہ موت کا طلب گار ہوں میں
رنج و الم و غم سے گرانبار ہوں میں
پر زندگی اپنی کہہ چکا ہوں تجھ کو
کس منہ سے کہوں زیست سے بیزار ہوں میں
(عبدالعلیم آسی غازی پوری)

نیرنگیِ قدرت کے تماشے دیکھے
کیا کیا تری صنعت کے تماشے دیکھے
اک شکل کی لاکھوں میں نہیں دو شکلیں
کثرت میں بھی وحدت کے تماشے دیکھے
(عرش ملیح آبادی)

سرمایہٴ غفلت ہے تماشائے جہاں
بینا ہے وہ جو نہ وا کرے آنکھ یہاں
ہر پردہٴ دید ہے حجابِ غفلت
عارف ہی کو کھلتا ہے یہ رازِ پنہاں
(عزیز بریلوی)

کچھ عشق میں تو مزہ نہ پایا ہم نے
اس دل ہی کو مفت میں گنوایا ہم نے
اور جس کے لیے گنوایا دل کو جرأت
اس کو اپنا کبھی نہ پایا ہم نے
(قلندر بخش جرأت)

ہے جسم مرا اور نہ جاں ہے باقی
تربت میں نہ کوئی استخواں ہے باقی
کرتا ہے خدا تو امتحاں تا دمِ زیست
پر بت کا ہنوز امتحاں ہے باقی
(ناسخ)

ساقی مجھے پھر فکرِ جہاں نے گھیرا
میخانہ سلامت رہے دائم تیرا
تجھ سا کوئی ساقی ہے نہ مجھ سا میخوار
بھر دے بھر دے پیالہ بھر دے میرا
(ناصر کاظمی)

غافل جو شباب میں نہیں دانا ہے
اپنا جو اُسے کہے وہ دیوانہ ہے
رہتی ہی نہیں سبزہٴ عارض کی بہار
یہ رنگ ہے عارضی وہ بیگانہ ہے
(ناظر حسین خاں)

بندوں کو ضرور اپنے صلہ دیتا ہے
دیتا ہے، طلَب سے بھی سوا دیتا ہے
تُو مانگنے والوں کی طرح مانگ کے دیکھ
ہر مانگنے والے کو خدا دیتا ہے
(نثار اکبر آبادی)

مفہومِ عزا جاننے والے کم ہیں
احسان کو گرداننے والے کم ہیں
شبّیر ترے ماننے والے ہیں بہت
لیکن ترے پہچاننے والے کم ہیں
(نجم آفندی)

ملتا ہوں تو سر پہلے جھکا لیتا ہوں
پھر فرشِ دل و چشم بچھا لیتا ہوں
کچھ ایسی ہے افتادِ طبیعت اپنی
دشمن کو بھی میں دوست بنا لیتا ہوں
(نجم ندوی)

تجھ مُکھ کا ہے یہ پھول چَمَن کی زینت
تجھ شمع کا شعلہ ہے اَگَن کی زینت
فردوس میں نرگس نے اشارے سوں کہا
"یہ نور ہے عالم کے نَیَن کی زینت"
(ولی دکنی)